07:14 , 23 جون 2026
Watch Live

یورووژن 2026 بحران کا شکار، چار یورپی ممالک کا اسرائیل کی شمولیت پر مقابلے کا بائیکاٹ

یورووژن 2026 بحران کا شکار

یورو وژن سنگنگ مقابلہ 2026 ایک بڑے سفارتی اور سیاسی تنازع کا شکار ہوگیا ہے، جب چار یورپی ممالک—آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا اور اسپین—نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال ہونے والے اس میوزک ایونٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔

ان ممالک کا بائیکاٹ یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) کے حالیہ فیصلے کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو مقابلے سے نہیں نکالا جائے گا، اور اس معاملے پر ووٹنگ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

EBU کے فیصلے نے متعدد یورپی ممالک اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا، جن کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آئرلینڈ کے سرکاری براڈکاسٹر RTE نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں "انسانی بحران اور بے تحاشا جانی نقصان” کی وجہ سے وہ مقابلے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ نیدرلینڈز نے مؤقف اپنایا کہ اسرائیل کی شرکت عوامی اخلاقی اقدار اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، لبنان پر حملہ

سلووینیا نے 20 ہزار شہید ہونے والے بچوں کی یاد میں یورو وژن سے دستبرداری کا اعلان کیا، جبکہ اسپین کے براڈکاسٹر RTVE نے الزام لگایا کہ اسرائیل یورو وژن جیسے غیرسیاسی مقابلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اس تنازع کے دوران جرمنی نے برعکس مؤقف اپنایا اور اعلان کیا کہ اگر اسرائیل کو مقابلے سے نکالا گیا تو وہ خود بھی یورو وژن میں حصہ نہیں لے گا، جس سے یورپی ممالک میں تقسیم مزید واضح ہوگئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ نے EBU کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اسرائیل دنیا کے ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نمائندگی کا حق رکھتا ہے، اور اس کا بائیکاٹ کی بنیاد پر اخراج ناقابلِ قبول ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION